اسلام کا فلسفہ قربانی | پہلی قسط | ہابیل اور قابیل

آج ہم ایک سیریز شروع کر رہے ہیں جو کہ اسلام کے فلسفہ قربانی کے بارے میں ہے۔ آج کی پہلی قسط میں ہم حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کے قصے پر بات کریں گے کیونکہ قربانی کی عبادت وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ ہابیل نے جانور پالنے کا پیشہ اختیار کیا اور قابیل نے کھیتی باڑی کا پیشہ اپنایا۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ اپنے بیٹوں سے کہیں کہ اللہ کے حضور اپنی اپنی قربانی پیش کریں۔ ہابیل نے ایک جانور کی قربانی پیش کی اور قابیل نے اپنی کھیتی سے غلہ پیش کیا۔ جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ قربانی کا خون اور گوشت اللہ تک نہیں پہنچتا بلکہ تمہاری نیت پہنچتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہابیل کی قربانی کا گوشت یا جانور خاص نہیں تھا بلکہ فرق صرف نیت کا تھا۔ ہابیل جو جانور لایا تھا وہ بہترین تھا جبکہ قابیل نے جو غلہ پیش کیا وہ ناقص تھا۔ دونوں نے قربانی پیش کی، لیکن نیتوں میں فرق تھا اور اللہ نیت کی بنیاد پر ہی انعام عطا کرتا ہے۔ قابیل کو اللہ کا فیصلہ پسند نہیں آیا اور وہ حسد کا شکار ہو گیا۔ شیطان نے اسے بہکا دیا اور قابیل، ہابیل کا دشمن بن گیا اور بالآخر قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا۔


بیشک یہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کے لیے ایک مشکل ترین وقت ہوگا، لیکن انہوں نے صبر کیا۔ اللہ نے ہابیل کی قربانی کے بدلے میں انہیں ایک اور بیٹا عطا کیا جو حضرت شیث علیہ السلام تھے۔ اللہ نے انہیں نبی بنایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ نے ایک قربانی ہابیل کی شکل میں قبول کی اور اس کے بدلے میں بہتر عطا کیا۔ بیشک اللہ ہمارے حق میں سب سے بہتر کرنے والا ہے، لیکن ہم انسان اس کی سمجھ نہیں رکھتے۔


اس واقعے سے ہم نے کیا سیکھا؟ ہم نے یہ سیکھا کہ اللہ کو اپنی سب سے بہترین چیز قربانی کے لیے پیش کریں گے تو اللہ ہمیں اس سے بہتر عطا کرے گا۔ آج کا مسلمان اس سبق کو بھول چکا ہے۔ ہمیں آنے والی ہر تکلیف پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اللہ نے اس صبر کے بدلے میں ہمارے لیے کون سی بہترین چیز رکھی ہے۔ اور یہ ضروری نہیں کہ جو بہترین چیز اللہ نے ہمارے لیے رکھی ہو وہ ہمیں ہی ملے۔ آنے والی اقساط میں جن واقعات کا ہم ذکر کریں گے، ان سے ہمیں اندازہ ہوگا کہ اللہ ہمارے صبر اور قربانیوں کا بدلہ آنے والی نسلوں کو ضرور عطا کرتا ہے۔


اللہ ہمیں اپنی حکمتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس قسط کے لیے اتنا ہی، آپ سے اگلی قسط میں بات ہوگی۔ اللہ ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے۔ اللہ حافظ۔

Comments